18 اشعار

سورج کا شہر

Sooraj ka Shehr

''نہیں یہ سورج کے شہر کا آدمی نہیں ہےکہ یہ تو مرنے کے بعد فٹ پاتھ پر پڑا ہے

یہ لاش ہم سب کی طرح سورج کے ساتھ گردش میں کیوں نہیں ہے؟پڑھو تو اس ڈائری میں کیا ہے؟''

نچے کھچے اک ورق پہ کچھ یوں لکھا ہوا تھا''میں اپنی دنیائے فکر و فن تج کے آج بن باس میں پڑا ہوں

ضرورتوں میں گھرا ہوا ہوںیہاں تو دو اور دو کا حاصل ہمیشہ ہی چار ہاتھ آیا

کہ پانچ نا ممکنات میں ہےعظیم فن کار کا قلم ہو کہ کارخانے

کسی کو تخلیق حسن کی آرزو نہیں ہےمقدس آگ ان کے دل کی یوں پیٹ کے جہنم میں جل رہی ہے

کہ زندگی کی جو قوتیں ہیں وہ خود کو زندہ ہی رکھنے میں صرف ہو رہی ہیںمشین کی طرح ذہن بھی کام کر رہے ہیں

رگوں میں جیتے لہو کے بدلے رقیق لوہا بھرا ہوا ہےمشین کی طرح پانو چلتے ہیں

آدمی کا جلال گردش میں سرنگوں ہےارادہ و اختیار اک اضطراب سنگیں ہے جس سے بچ کر

کوئی نہیں دو گھڑی کسی سے جو بے غرض رک کے بات کر لے(کسے خبر، آدمی کے دو میٹھے بول کو میں ترس گیا ہوں)''

یہاں یہ تحریر آنسوؤں سے مٹی ہوئی تھی اور اس سے آگے''یہ شہر سورج کا شہر ہے اس کے روز و شب کا پتہ نہیں ہے

نہ آج تک وقت اور تاریخ کا مجھے علم ہو سکا ہےکہ میرے احساس میں کوئی آج ہے نہ کل

اور یہ رات ہے یا سیاہ سورج؟غروب ہو کر بھی آسمان و زمیں سے پیہم گزر رہا ہے

بس اس جہاں میں سیاہ و روشن ہمیشہ دن ہےہمیشہ سورج ہی اپنے سر پر کھڑا ہوا ہے

یہ کائنات اک شکستہ گاڑی ہے ایک پہیے پہ چل رہی ہےزمین کا چاند کیا خبر کس اندھیرے پاتال میں گرا ہو

ہر ایک شے بھاگتی ہوئی ایک دوسرے کی تلاش میں گمبس ایک تصادم

ہر ایک شخص ایک دوڑتی لاش ہے کہ اک دوسرے سے وحشت زدہ، گریزاںسب اپنا سورج سے منہ چھپاے تلاش میں وقت کی ہراساں

کسی کو اتنی بھی شام ملتی نہیں کہ تھوڑا اداس ہو لیں''یہاں پہ جملے عجیب سے تھے لہو کے دھبوں سے مٹ گئے تھے

— شہاب جعفری