9 اشعار

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر

Gham-e-ishq rah gaya hai gham-e-justuju mein dhal kar

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر

«غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کروہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کر

تری گفتگو کو ناصح دل غم زدہ سے جل کرابھی تک تو سن رہا تھا مگر اب سنبھل سنبھل کر

نہ ملا سراغ منزل کبھی عمر بھر کسی کونظر آ گئی ہے منزل کبھی دو قدم ہی چل کر

غم عمر مختصر سے ابھی بے خبر ہیں کلیاںنہ چمن میں پھینک دینا کسی پھول کو مسل کر

ہیں کسی کے منتظر ہم مگر اے امید مبہمکہیں وقت رہ نہ جائے یوں ہی کروٹیں بدل کر

مرے دل کو راس آیا نہ جمود غیر فانیملی راہ زندگانی مجھے خار سے نکل کر

مری تیز گامیوں سے نہیں برق کو بھی نسبتکہیں کھو نہ جائے دنیا مرے ساتھ ساتھ چل کر

کبھی یک بہ یک توجہ کبھی دفعتاً تغافلمجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کر

ہیں شکیلؔ زندگی میں یہ جو وسعتیں نمایاںانہیں وسعتوں سے پیدا کوئی عالم غزل کر

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں