9 اشعار

غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے

Gham-e-Ashiqi Se Keh Do Rah-e-Aam Tak Na Pahunche

غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے

«غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے

میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دیترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے

وہ نوائے مضمحل کیا نہ ہو جس میں دل کی دھڑکنوہ صدائے اہل دل کیا جو عوام تک نہ پہنچے

مرے طائر نفس کو نہیں باغباں سے رنجشملے گھر میں آب و دانہ تو یہ دام تک نہ پہنچے

نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہےیہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے

یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارکمگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے

جو نقاب رخ اٹھا دی تو یہ قید بھی لگا دیاٹھے ہر نگاہ لیکن کوئی بام تک نہ پہنچے

انہیں اپنے دل کی خبریں مرے دل سے مل رہی ہیںمیں جو ان سے روٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے

وہی اک خموش نغمہ ہے شکیلؔ جان ہستیجو زبان پر نہ آئے جو کلام تک نہ پہنچے

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں