8 اشعار

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے

Junun Se Guzarne Ko Jee Chahta Hai

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے

«جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے طارق نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہےہنسی ضبط کرنے کو جی چاہتا ہے

جہاں عشق میں ڈوب کر رہ گئے ہیںوہیں پھر ابھرنے کو جی چاہتا ہے

وہ ہم سے خفا ہیں ہم ان سے خفا ہیںمگر بات کرنے کو جی چاہتا ہے

ہے مدت سے بے رنگ نقش محبتکوئی رنگ بھرنے کو جی چاہتا ہے

بہ ایں خود سری وہ غرور محبتانہیں سجدہ کرنے کو جی چاہتا ہے

قضا مژدۂ زندگی لے کے آئےکچھ اس طرح مرنے کو جی چاہتا ہے

نظام دو عالم کی ہو خیر یاربپھر اک آہ کرنے کو جی چاہتا ہے

گناہ مکرر شکیلؔ اللہ اللہبگڑ کر سنورنے کو جی چاہتا ہے

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں