6 اشعار

دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہے

Dil Ke Behlane Ki Tadbir To Hai

دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہے

«دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہےتو نہیں ہے تری تصویر تو ہے

ہم سفر چھوڑ گئے مجھ کو تو کیاساتھ میرے مری تقدیر تو ہے

قید سے چھوٹ کے بھی کیا پایاآج بھی پاؤں میں زنجیر تو ہے

کیا مجال ان کی نہ دیں خط کا جواببات کچھ باعث تاخیر تو ہے

پرسش حال کو وہ آ ہی گئےکچھ بھی ہو عشق میں تاثیر تو ہے

غم کی دنیا رہے آباد شکیلؔمفلسی میں کوئی جاگیر تو ہے

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں