5 اشعار

دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا

Dur Hai Manzil, Rahen Mushkil, Aalam Hai Tanhai Ka

دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا

«دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کاآج مجھے احساس ہوا ہے، اپنی شکستہ پائی کا

دیکھ کے مجھ کو دنیا والے کہنے لگے ہیں دیوانہآج وہاں ہے عشق جہاں کچھ خوف نہیں رسوائی کا

چھوڑ دے رسمِ خودنگہی کو، توڑ دے اپنا آئینہختم کیے دیتا ہے ظالم، روپ تری انگڑائی کا

میں نے ضیا جو حسن کو بخشی، اس کا تو کوئی ذکر نہیںلیکن گھر گھر میں چرچا ہے آج تری رعنائی کا

اہلِ ہوس اب پچھتاتے ہیں ڈوب کے بحرِ غم میں شکیلؔپہلے نہ تھا ان بے چاروں کو اندازہ گہرائی کا

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں