5 اشعار

آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے

Aasmaan kuch bhi nahin ab tere karne ke liye

آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیےمیں نے سب تیاریاں کر لی ہیں مرنے کے لیے

اس بلندی خوف سے آزاد ہو اس نے کہاچاند سے جب بھی کہا نیچے اترنے کے لیے

اب زمیں کیوں تیرے نقشے سے نہیں ہٹتی نظررنگ کیا کوئی بچا ہے اس میں بھرنے کے لیے

یہ جگہ حیرت سرائے ہے کہاں تھی یہ خبریوں ہی آ نکلا تھا میں تو سیر کرنے کے لیے

کتنا آساں لگ رہا ہے مجھ کو آگے کا سفرچھوڑ آیا پیچھے پرچھائیں کو ڈرنے کے لیے

— شہریار