11 اشعار

عہد حاضر کی دل ربا مخلوق

Ahd-e-Haazir ki dilruba makhlooq

زرد بلبوں کے بازوؤں میں اسیرسخت بے جان لمبی کالی سڑک

اپنی بے نور دھندلی آنکھوں سےپڑھ رہی ہے نوشتۂ تقدیر

بند کمروں کے گھپ اندھیروں میںبلیاں پی رہی ہیں دودھ کے جام

ہوٹلوں سینما گھروں کے قریبچمچاتی ہوئی نئی کاریں

اور پنواڑیوں کی دوکانیںاور کچھ ٹولیاں فقیروں کی

پرس والوں کے انتظار میں ہیںادھ پھٹے پوسٹروں کے پیراہن

آہنی بلڈنگوں کے جسموں پرکتنے دل کش دکھائی دیتے ہیں

بس کی بے حس نشستوں پر بیٹھیدن کے بازار سے خریدی ہوئی

آرزو غم امید محرومینیند کی گولیاں گلاب کے پھول

کیلے امردو سنترے چاولپینٹ گڑیا شمیز چوہے دان

ایک اک شے کا کر رہی ہے حسابعہد حاضر کی دل ربا مخلوق!

— شہریار