11 اشعار

زندہ رہنے کا یہ احساس

Zinda rehne ka ye ehsaas

ریت مٹھی میں کبھی ٹھہری ہےپیاس سے اس کو علاقہ کیا ہے

عمر کا کتنا بڑا حصہ گنوا بیٹھا میںجانتے بوجھتے کردار ڈرامے کا بنا

اور اس رول کو سب کہتے ہیںہوشیاری سے نبھایا میں نے

ہنسنے کے جتنے مقام آئے ہنسابس مجھے رونے کی ساعت پہ خجل ہونا پڑا

جانے کیوں رونے کے ہر لمحے کوٹال دیتا ہوں کسی اگلی گھڑی پر

دل میں خوف و نفرت کو سجا لیتا ہوںمجھ کو یہ دنیا بھلی لگتی ہے

بھیڑ میں اجنبی لگنے میں مزا آتا ہےآشنا چہروں کے بدلے ہوئے تیور مجھ کو

حال سے ماضی میں لے جاتے ہیںکہنیاں زخمی ہیں اور گھٹنوں پر

کچھ خراشوں کے نشاںسوندھی مٹی کی مہک کھینچے لیے جاتی ہے

تتلیاں پھول ہوا چاندنی کنکر پتھرسب مرے ساتھ میں ہیں

سانس بے خوفی سے لیتا ہوں میں

— شہریار