6 اشعار

عکس کو قید کہ پرچھائیں کو زنجیر کریں

Aks ko qaid ke parchhaiyan ko zanjir karein

عکس کو قید کہ پرچھائیں کو زنجیر کریںساعت ہجر تجھے کیسے جہانگیر کریں

پاؤں کے نیچے کوئی شے ہے زمیں کی صورتچند دن اور اسی وہم کی تشہیر کریں

شہر امید حقیقت میں نہیں بن سکتاتو چلو اس کو تصور ہی میں تعمیر کریں

اب تو لے دے کے یہی کام ہے ان آنکھوں کاجن کو دیکھا نہیں ان خوابوں کی تعبیر کریں

ہم میں جرأت کی کمی کل کی طرح آج بھی ہےتشنگی کس کے لبوں پر تجھے تحریر کریں

عمر کا باقی سفر کرنا ہے اس شرط کے ساتھدھوپ دیکھیں تو اسے سائے سے تعبیر کریں

— شہریار