7 اشعار

اپنی یاد میں

Apni yaad mein

میں اپنے گھاؤ گن رہا ہوںدور تتلیوں کے ریشمی پروں کے نیلے پیلے رنگ

اڑ رہے ہیں ہر طرففرشتے آسمان سے اتر رہے ہیں صف بہ صف

میں اپنے گھاؤ گن رہا ہوںآنسوؤں کی اوس میں نہا کے بھولے بسرے خواب آ گئے

خون کا دباؤ اور کم ہوانحیف جسم پر کسی کے ناخنوں کے آڑے ترچھے نقش

جگمگا اٹھےلبوں پہ لکنتوں کی برف جم گئی

طویل ہچکیوں کا ایک سلسلہفضا میں ہے

لہو کی بو ہوا میں ہے

— شہریار