6 اشعار

بے تاب ہیں اور عشق کا دعویٰ نہیں ہم کو

Be-taab hain aur ishq ka daava nahin hum ko

بے تاب ہیں اور عشق کا دعویٰ نہیں ہم کوآوارہ ہیں اور دشت کا سودا نہیں ہم کو

غیروں کی محبت پہ یقیں آنے لگا ہےیاروں سے اگرچہ کوئی شکوہ نہیں ہم کو

نیرنگیئ دل ہے کہ تغافل کا کرشمہکیا بات ہے جو تیری تمنا نہیں ہم کو

یا تیرے علاوہ بھی کسی شے کی طلب ہےیا اپنی محبت پہ بھروسا نہیں ہم کو

یا تم بھی مداوائے الم کر نہیں سکتےیا چارہ گرو فکر مداوا نہیں ہم کو

یوں برہمئی کاکل امروز سے خوش ہیںجیسے کہ خیال رخ فردا نہیں ہم کو

— شہریار