6 اشعار

گلاب جسم کا یوں ہی نہیں کھلا ہوگا

Gulab jism ka yoon hi nahin khula hoga

گلاب جسم کا یوں ہی نہیں کھلا ہوگاہوا نے پہلے تجھے پھر مجھے چھوا ہوگا

شریر شوخ کرن مجھ کو چوم لیتی ہےضرور اس میں اشارہ ترا چھپا ہوگا

مری پسند پہ تجھ کو بھی رشک آئے گاکہ آئنے سے جہاں تیرا سامنا ہوگا

یے اور بات کہ میں خود نہ پاس آ پائیپہ مرا سایہ تو ہر شب تجھے ملا ہوگا

یے سوچ سوچ کے کٹتی نہیں ہے رات مریکہ تجھ کو سوتے ہوئے چاند دیکھتا ہوگا

میں تیرے ساتھ رہوں گی وفا کی راہوں میںیہ عہد ہے نہ مرے دل سے تو جدا ہوگا

— شہریار