5 اشعار

دھوپ کے دشت میں بے سایہ شجر میں ہم تھے

Dhoop ke dasht mein be-saaya shajar mein hum the

دھوپ کے دشت میں بے سایہ شجر میں ہم تھےمنہمک پھر بھی سرابوں کے سفر میں ہم تھے

منتشر کر چکی آندھی تو یہ معلوم ہوااک بگولے کی طرح ریت کے گھر میں ہم تھے

تیری آواز کے جادو نے خبردار کیانا سمجھ تھے کہ بلاؤں کے اثر میں ہم تھے

تا نہ شاکی رہے دریائے ہوس کی کوئی موجبادباں جسم کے کھولے کہ بھنور میں ہم تھے

یہ ترے قرب کا اعجاز ہے ورنہ پہلےطاق اتنے کہاں جینے کے ہنر میں ہم تھے

— شہریار