5 اشعار

نکلا ہے چاند شب کی پذیرائی کے لئے

Nikla hai chand shab ki pazeerai ke liye

نکلا ہے چاند شب کی پذیرائی کے لئےیہ عذر کم ہے انجمن آرائی کے لئے

تھا بولنا تو ہو گئے خاموش ہم سبھیکیا کچھ کیا ہے شہرت و رسوائی کے لئے

پل بھر میں کیسے لوگ بدل جاتے ہیں یہاںدیکھو کہ یہ مفید ہے بینائی کے لئے

سرسبز میری شاخ ہنر کیوں نہیں ہوئییہ مسئلہ ہے تیرے تمنائی کے لئے

ہے آج یہ گلہ کہ اکیلا ہے شہریارؔترسو گے کل ہجوم میں تنہائی کے لئے

— شہریار