5 اشعار

گزرے تھے حسین ابن علی رات ادھر سے

Guzre the Hussain ibn-e-Ali raat idhar se

گزرے تھے حسین ابن علی رات ادھر سےہم میں سے مگر کوئی بھی نکلا نہیں گھر سے

اس بات پہ کس واسطے حیران ہیں آنکھیںپت جھڑ ہی میں ہوتے ہیں جدا پتے شجر سے

تو یوں ہی پشیماں ہے سبب تو نہیں اس کانیند آتی نہیں ہم کو کسی خواب کے ڈر سے

سنتے ہیں بہت نام کبھی دیکھتے ہم بھیاے موج بلا تجھ کو گزرتے ہوئے سر سے

تھکنا ہے ٹھہرنا ہے بہرحال سبھی کوجی اپنا بھی بھر جائے گا اک روز سفر سے

— شہریار