5 اشعار

ایک کالی نظم

Ek kaali nazm

میں کورے کاغذ پر لکھوں پھر ایک کالی نظمالکھ جگاتے سناٹوں سے پھر سے سجاؤں بزم

گدر امرودوں کی خوشبو پاگل کر جائےمیری ان خالی آنکھوں کو جل تھل کر جائے

دور درندوں کی آوازیں خود سے لڑتی ہوںمیرے اس کے بیچ میں لمبی راتیں پڑتی ہوں

شکنوں سے عاری اک بستر مجھ کو تکتا ہوجسم مرا جب آدھا سوتا آدھا جگتا ہو

تب میں کروں یہ عزمکہ لکھوں کوئی کالی نظم

— شہریار