6 اشعار

نجمہؔ کے لیے ایک نظم

Najma ke liye ek nazm

کیا سوچتی ہودیوار فراموشی سے ادھر کیا دیکھتی ہو

آئینہ خواب میں آنے والے لمحوں کے منظر دیکھوآنگن میں پرانے نیم کے پیڑ کے سائے میں

بھیو کے جہاز میں بیٹھی ہوئی ننھی چڑیاکیوں اڑتی نہیں

جنگل کی طرف جانے والی وہ ایک اکیلی پگڈنڈیکیوں مڑتی نہیں

ٹوٹی زنجیر صداؤں کی کیوں جڑتی نہیںاک سرخ گلاب لگا لو اپنے جوڑے میں

اور پھر سوچو

— شہریار