3 اشعار

ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک

Ek Lamhe Se Dusre Lamhe Tak

ایک آہٹ ابھی دروازے پہ لہرائی تھیایک سرگوشی ابھی کانوں سے ٹکرائی تھی

ایک خوشبو نے ابھی جسم کو سہلایا تھاایک سایہ ابھی کمرے میں مرے آیا تھا

اور پھر نیند کی دیوار کے گرنے کی صدااور پھر چاروں طرف تیز ہوا!!

— شہریار