9 اشعار

وہ موڑ

Woh Mod

پھر تری تتلی نما صورت مجھے یاد آ گئیمجھ کو وہ لمحہ ابھی بھولا نہیں

ایک کونے میں کئی لوگوں کے ساتھگفتگو میں منہمک کھویا ہوا

میری آنکھوں نے کبھی تجھ سا کوئی دیکھا نہ تھامیں تجھے تکنے لگا

دیر تک تکتا رہاآنکھ سے کانوں سے ہونٹوں سے تجھے تکتا رہا

کیا عجب دیوانگی تھیرشک آیا بخت پہ اپنے مجھے

لفظ کے اسرار مجھ پہ وا ہوئےگھنٹیاں سی میرے کانوں میں بجیں

نور کے سیلاب میں ڈوبی ہوئی اس شام کیایک اک ساعت ترے ہمراہ ہے

رک گیا ہے وقت اس اک موڑ پرمیں جدائی کے لئے مجبور تھا

تو جدائی پر جہاں مسرور تھا

— شہریار