7 اشعار

فیصلے کی گھڑی

Faisle ki ghadi

بارشیں پھر زمینوں سے ناراض ہیںاور سمندر سبھی خشک ہیں

کھردری سخت بنجر زمینوں میں کیا بوئیے اور کیا کاٹئےآنکھ کی اوس کے چند قطروں سے کیا ان زمینوں کو سیراب کر پاؤ گے

گندم و جو کے خوشوں کی خوشبو تمہارا مقدر نہیںآسمانوں سے تم کو رقابت رہی

اور زمینوں سے تم بے تعلق رہےریڑھ کی ایک ہڈی پہ تم کو بہت ناز تھا

یہ گماں بھی نہ تھاایک دن بے لہو یہ بھی ہو جائے گی

فیصلے کی گھڑی آ گئی کچھ کروتتلیوں کے سنہرے ہرے سرخ نیلے پروں کے لیے

آنکھ کی اوس کے چند قطروں سے بنجر زمیں کے کسی گوشے میںپھول پھر سے اگانے کی کوشش کرو

— شہریار