4 اشعار

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا

Yeh jab hai ke ek khwaab se rishta hai hamara

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارادن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا

چہروں کے سمندر سے گزرتے رہے پھر بھیاک عکس کو آئینہ ترستا ہے ہمارا

ان لوگوں سے کیا کہیے کہ کیا بیت رہی ہےاحوال مگر تو تو سمجھتا ہے ہمارا

ہر موڑ پہ پڑتا ہے ہمیں واسطہ اس سےدنیا سے الگ کہنے کو رستہ ہے ہمارا

— شہریار