5 اشعار

یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتے

Yeh qafile yaadon ke kahin kho gaye hote

یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتےاک پل بھی اگر بھول سے ہم سو گئے ہوتے

اے شہر ترا نام و نشاں بھی نہیں ہوتاجو حادثے ہونے تھے اگر ہو گئے ہوتے

ہر بار پلٹتے ہوئے گھر کو یہی سوچااے کاش کسی لمبے سفر کو گئے ہوتے

ہم خوش ہیں ہمیں دھوپ وراثت میں ملی ہےاجداد کہیں پیڑ بھی کچھ بو گئے ہوتے

کس منہ سے کہیں تجھ سے سمندر کے ہیں حق دارسیراب سرابوں سے بھی ہم ہو گئے ہوتے

— شہریار