5 اشعار

ہر خواب کے مکاں کو مسمار کر دیا ہے

Har khwab ke makan ko masmar kar diya hai

ہر خواب کے مکاں کو مسمار کر دیا ہےبہتر دنوں کا آنا دشوار کر دیا ہے

وہ دشت ہو کہ بستی سایہ سکوت کا ہےجادو اثر سخن کو بے کار کر دیا ہے

گرد و نواح دل میں خوف و ہراس اتناپہلے کبھی نہیں تھا اس بار کر دیا ہے

کل اور ساتھ سب کے اس پار ہم کھڑے تھےاک پل میں ہم کو کس نے اس پار کر دیا ہے

پائے جنوں پہ کیسی افتاد آ پڑی ہےاگلی مسافتوں سے انکار کر دیا ہے

— شہریار