5 اشعار

جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا

Jo chahti duniya hai wo mujh se nahin hoga

جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگاسمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگا

اب رات کی دیوار کو ڈھانا ہے ضرورییہ کام مگر مجھ سے اکیلے نہیں ہوگا

خوش فہمی ابھی تک تھی یہی کار جنوں میںجو میں نہیں کر پایا کسی سے نہیں ہوگا

تدبیر نئی سوچ کوئی اے دل سادہمائل بہ کرم تجھ پہ وہ ایسے نہیں ہوگا

بے نام سے اک خوف سے دل کیوں ہے پریشاںجب طے ہے کہ کچھ وقت سے پہلے نہیں ہوگا

— شہریار