5 اشعار

جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھا

Juda hue woh log ke jin ko saath mein aana tha

جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھااک ایسا موڑ بھی ہماری رات میں آنا تھا

تجھ سے بچھڑ جانے کا غم کچھ خاص نہیں ہم کوایک نہ اک دن کھوٹ ہماری ذات میں آنا تھا

آنکھوں کو یہ کہتے سنتے رہتے ہیں ہر دمسوکھے کو آنا تھا اور برسات میں آنا تھا

اک لمبی سنسان سڑک پر تنہا پھرتے ہیںوہ آہٹ تھی ہم کو نہ اس کی بات میں آنا تھا

اے یادو تم ایسے کیوں اس وقت کہاں آئیںکسی مناسب وقت نئے حالات میں آنا تھا

— شہریار