5 اشعار

تیرے سوا بھی کوئی مجھے یاد آنے والا تھا

Tere siwa bhi koi mujhe yaad aane wala tha

تیرے سوا بھی کوئی مجھے یاد آنے والا تھامیں ورنہ یوں ہجر سے کب گھبرانے والا تھا

جان بوجھ کر سمجھ کر میں نے بھلا دیاہر وہ قصہ جو دل کو بہلانے والا تھا

مجھ کو ندامت بس اس پر ہے لوگ بہت خوش ہیںاس لمحے کو کھو کر جو پچھتانے والا تھا

یہ تو خیر ہوئی دریا نے رخ تبدیل کیامیرا شہر بھی اس کی زد میں آنے والا تھا

اک اک کر کے سب رستے کتنے سنسان ہوئےیاد آیا میں لمبے سفر پر جانے والا تھا

— شہریار