5 اشعار

مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائے

Mash'al-e-dard phir ek baar jala li jaae

مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائےجشن ہو جائے ذرا دھوم مچا لی جائے

خون میں جوش نہیں آیا زمانہ گزرادوستو آؤ کوئی بات نکالی جائے

جان بھی میری چلی جائے تو کچھ بات نہیںوار تیرا نہ مگر ایک بھی خالی جائے

جو بھی ملنا ہے ترے در ہی سے ملنا ہے اسےدر ترا چھوڑ کے کیسے یہ سوالی جائے

وصل کی صبح کے ہونے میں ہے کچھ دیر ابھیداستاں ہجر کی کچھ اور بڑھا لی جائے

— شہریار