4 اشعار

تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیں

Teri saansein mujh tak aate baadal ho jaaein

تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیںمیرے جسم کے سارے علاقے جل تھل ہو جائیں

ہونٹ ندی سیلاب کا مجھ پہ دروازہ کھولےہم کو میسر ایسے بھی اک دو پل ہو جائیں

دشمن دھند ہے کب سے میری آنکھوں کے درپئےہجر کی لمبی کالی راتیں کاجل ہو جائیں

عمر کا لمبا حصہ کر کے دانائی کے نامہم بھی اب یہ سوچ رہے ہیں پاگل ہو جائیں

— شہریار