5 اشعار

موم کے جسموں والی اس مخلوق کو رسوا مت کرنا

Mom ke jismon waali iss makhlooq ko ruswa mat karna

موم کے جسموں والی اس مخلوق کو رسوا مت کرنامشعل جاں کو روشن کرنا لیکن اتنا مت کرنا

حق گوئی اور وہ بھی اتنی جینا دوبھر ہو جائےجیسا کچھ ہم کرتے رہے ہیں تم سب ویسا مت کرنا

پچھلے سفر میں جو کچھ بیتا بیت گیا یارو لیکناگلا سفر جب بھی تم کرنا دیکھو تنہا مت کرنا

بھوک سے رشتہ ٹوٹ گیا تو ہم بے حس ہو جائیں گےاب کے جب بھی قحط پڑے تو فصلیں پیدا مت کرنا

اے یادو جینے دو ہم کو بس اتنا احسان کرودھوپ کے دشت میں جب ہم نکلیں ہم پر سایا مت کرنا

— شہریار