4 اشعار

نیا کھیل

Naya khel

اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلوکہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھر

وہ سامنے کھلا ہوا میدان ہے جہاںاک ایسا کھیل پیش کیا جائے گا وہاں

جو آج تک کسی نے بھی دیکھا نہیں کبھییعنی تمہاری جاگتی آنکھوں کے سامنے

آوازوں کے نجوم صداؤں کے ماہتابسناٹوں کی صلیب پہ لٹکائے جائیں گے

— شہریار