5 اشعار

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات

Pehle nahaayi os mein phir aansuon mein raat

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں راتیوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات

کچھ بھی دکھائی دیتا نہیں دور دور تکچبھتی ہے سوئیوں کی طرح جب رگوں میں رات

وہ کھردری چٹانیں وہ دریا وہ آبشارسب کچھ سمیٹ لے گئی اپنے پروں میں رات

آنکھوں کو سب کی نیند بھی دی خواب بھی دیےہم کو شمار کرتی رہی دشمنوں میں رات

بے سمت منزلوں نے بلایا ہے پھر ہمیںسناٹے پھر بچھانے لگی راستوں میں رات

— شہریار