7 اشعار

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا

Sabhi ko gham hai samundar ke khushk hone ka

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کاکہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا

برہنہ جسم بگولوں کا قتل ہوتا رہاخیال بھی نہیں آیا کسی کو رونے کا

صلہ کوئی نہیں پرچھائیوں کی پوجا کامآل کچھ نہیں خوابوں کی فصل بونے کا

بچھڑ کے تجھ سے مجھے یہ گمان ہوتا ہےکہ میری آنکھیں ہیں پتھر کی جسم سونے کا

ہجوم دیکھتا ہوں جب تو کانپ اٹھتا ہوںاگرچہ خوف نہیں اب کسی کے کھونے کا

گئے تھے لوگ تو دیوار قہقہہ کی طرفمگر یہ شور مسلسل ہے کیسا رونے کا

مرے وجود پہ نفرت کی گرد جمتی رہیملا نہ وقت اسے آنسوؤں سے دھونے کا

— شہریار