5 اشعار

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے

Shikwa koi darya ki rawani se nahin hai

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہےرشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے

کل یوں تھا کہ یہ قید زمانی سے تھے بیزارفرصت جنہیں اب سیر مکانی سے نہیں ہے

چاہا تو یقیں آئے نہ سچائی پہ اس کیخائف کوئی گل عہد خزانی سے نہیں ہے

دہراتا نہیں میں بھی گئے لوگوں کی باتیںاس دور کو نسبت بھی کہانی سے نہیں ہے

کہتے ہیں مرے حق میں سخن فہم بس اتناشعروں میں جو خوبی ہے معانی سے نہیں ہے

— شہریار