10 اشعار

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا

Dekhna har subh tujh rukhsar ka

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا

«دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا» ولی محمد ولی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کاہے مطالعہ مطلع انوار کا

بلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیںکام ہے تجھ چہرۂ گل نار کا

صبح تیرا درس پایا تھا صنمشوق دل محتاج ہے تکرار کا

ماہ کے سینے اپر اے شمع روداغ ہے تجھ حسن کی جھلکار کا

دل کوں دیتا ہے ہمارے پیچ و تابپیچ تیرے طرۂ طرار کا

جو سنیا تیرے دہن سوں یک بچنبھید پایا نسخۂ اسرار کا

چاہتا ہے اس جہاں میں گر بہشتجا تماشا دیکھ اس رخسار کا

آرسی کے ہاتھ سوں ڈرتا ہے خطچور کوں ہے خوف چوکیدار کا

سرکشی آتش مزاجی ہے سببناصحوں کو گرمئ بازار کا

اے ولیؔ کیوں سن سکے ناصح کی باتجو دوانا ہے پری رخسار کا

— ولی محمد ولی