6 اشعار

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

Aate aate mera naam sa rah gaya

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

«آتے آتے مرا نام سا رہ گیا» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

آتے آتے مرا نام سا رہ گیااس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا

رات مجرم تھی دامن بچا لے گئیدن گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا

وہ مرے سامنے ہی گیا اور میںراستے کی طرح دیکھتا رہ گیا

جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئےاور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا

آندھیوں کے ارادے تو اچھے نہ تھےیہ دیا کیسے جلتا ہوا رہ گیا

اس کو کاندھوں پہ لے جا رہے ہیں وسیمؔاور وہ جینے کا حق مانگتا رہ گیا

— وسیم بریلوی