6 اشعار

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے

Andhera zehan ka simt-e-safar jab khone lagta hai

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے

«اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہےکسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے

وہ جتنی دور ہو اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہےمگر جب پاس آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے

کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پرمرے اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے

محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کییہی سب دیکھتا ہے اور کبیراؔ رونے لگتا ہے

سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیتپرائے کھیتوں پہ اپنوں میں جھگڑا ہونے لگتا ہے

یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکنجب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں