4 اشعار

میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گا

Main ye nahin kehta ke mera sar na milega

میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گا

«میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گا» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گالیکن مری آنکھوں میں تجھے ڈر نہ ملے گا

سر پر تو بٹھانے کو ہے تیار زمانہلیکن ترے رہنے کو یہاں گھر نہ ملے گا

جاتی ہے چلی جائے یہ مے خانے کی رونقکم ظرفوں کے ہاتھوں میں تو ساغر نہ ملے گا

دنیا کی طلب ہے تو قناعت ہی نہ کرناقطرے ہی سے خوش ہو تو سمندر نہ ملے گا

— وسیم بریلوی