5 اشعار

میرا کیا تھا میں ٹوٹا کہ بکھرا رہا

Mera kya tha main ṭooṭa ki bikhra raha

میرا کیا تھا میں ٹوٹا کہ بکھرا رہا

«میرا کیا تھا میں ٹوٹا کہ بکھرا رہا» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

میرا کیا تھا میں ٹوٹا کہ بکھرا رہاتیرے ہاتھوں میں تو اک کھلونا رہا

اک ذرا سی انا کے لئے عمر بھرتم بھی تنہا رہے میں بھی تنہا رہا

تیرے جانے کا منظر ہی غم خوار تھازندگی بھر جو آنکھوں سے لپٹا رہا

میرا احساس صدیوں پہ پھیلا ہواایسا آنسو جو پلکیں بدلتا رہا

گھر کی سب رونقیں مجھ سے اور میں وسیمؔطاق پر اک دیئے جیسا جلتا رہا

— وسیم بریلوی