6 اشعار

تمہیں غموں کا سمجھنا اگر نہ آئے گا

Tumhen ghamon ka samajhna agar na aayega

تمہیں غموں کا سمجھنا اگر نہ آئے گا

«تمہیں غموں کا سمجھنا اگر نہ آئے گا» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

تمہیں غموں کا سمجھنا اگر نہ آئے گاتو میری آنکھ میں آنسو نظر نہ آئے گا

یہ زندگی کا مسافر یہ بے وفا لمحہچلا گیا تو کبھی لوٹ کر نہ آئے گا

بنیں گے اونچے مکانوں میں بیٹھ کر نقشےتو اپنے حصے میں مٹی کا گھر نہ آئے گا

منا رہے ہیں بہت دن سے جشن تشنہ لبیہمیں پتا تھا یہ بادل ادھر نہ آئے گا

لگے گی آگ تو سمت سفر نہ دیکھے گیمکان شہر میں کوئی نظر نہ آئے گا

وسیمؔ اپنے اندھیروں کا خود علاج کروکوئی چراغ جلانے ادھر نہ آئے گا

— وسیم بریلوی