13 اشعار

کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا

Kaash main tere haseen haath ka kangan hota

کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا

«کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتاتو بڑے پیار سے چاوسے بڑے مان کے ساتھ

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کواور بیتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں

تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کومیں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا

جب کبھی موڈ میں آکر مجھے چوما کرتیتیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتا

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتاتو بڑے پیار سے چاو سے بڑے مان کے ساتھ

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کواور بے تابی سے فرصت کے خزاں لمحوں میں

تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کومیں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا

جب کبھی موڈمیں آکر مجھے چوما کرتیتیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتا

رات کو جب بھی تو نیندوں کے سفر پر جاتیمرمریں ہاتھ کا ایک تکیا بنایا کرتی

میں تیرے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتاتیری زلفوں کو تیرے گال کو چھیڑا کرتا

مجھ کو بے تاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہمجھ کو بے تاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ

میں تیری روح کے گلشن میں مہکتا رہتامیں تیرے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا

کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتاکاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں