6 اشعار

مٹی! تجھ کو نذر کئے ہیں ہم نے اپنے سارے خواب

Mitti! Tujh ko nazar kiye hain hum ne apne saare khwab

مٹی! تجھ کو نذر کئے ہیں ہم نے اپنے سارے خواب

«مٹی! تجھ کو نذر کئے ہیں ہم نے اپنے سارے خواب» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

مٹی! تجھ کو نذر کئے ہیں ہم نے اپنے سارے خواباپنے ہاتھوں دفنائے ہیں کیسے پیارے پیارے خواب

کیسی کیسی چین کی پریاں پل میں ہو جاتی ہیں راکھپلکوں اوپر رکھ جاتے ہیں ہر شب کچھ انگارے، خواب

پتھر کی بے رحم زمیں پر ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیاکانچ کے برتن ہی تو ٹھہرے آخرکار ہمارے خواب

اُن سے مل کر کچھ تو ہلکا ہو جاتا ہے جی کا بوجھباتیں کرنے آ جاتے ہیں اکثر سانجھ سکارے خواب

آنکھ کے دروازے تک آئے، پُرسہ دے کر لوٹ گئےاس کے سوا اور کرتے بھی کیا، بے بس اور بے چارے خواب

دل کا تٹ، آنکھوں کا پانی، زخم کا سبزہ، درد کی دھوپڈیرہ ڈالتے اور کہاں پر آخر یہ بنجارے خواب

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں