5 اشعار

کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریب

Kya badan hoga, jala hai darichon ke qareeb

کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریب

«کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریب» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریببھیگے موسم میں بھی اتنی آنچ پردوں کے قریب

جیسے وہ جوڑا ابھی تک مانگتا ہے مجھ سے پھولپاؤں رک جاتے ہیں اکثر آ کے گملوں کے قریب

زندگی نے دے کے محسوسات کی دولت مجھےکیسی کیسی برچھیاں رکھ دی ہیں سانسوں کے قریب

جانتا تھا ایک دن دنیا کو ہو گی اپنی کھوجمیں نے اپنی رہگزر رکھ دی تھی نقشوں کے قریب

کس کہانی کو بچانا چاہتا تھا وہ ظفرؔاک لرزتا ہاتھ تھا کاغذ کے پُرزوں کے قریب

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں