7 اشعار

شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیں

Shehar mein dil ke sarokaar kahin chalte hain

شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیں

«شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیں» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 23 سیکنڈ ہے۔

شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیںدشت اپنوں کو سمجھتا ہے‘ وہیں چلتے ہیں

خود جہاں اپنی حرارت سے فروزاں ہوں چراغوہاں احکام ہواؤں کے نہیں چلتے ہیں

بوجھ جو سانسوں پہ ہے‘ کم نہیں ہونے والاشہر میں حبس زیادہ ہے‘ کہیں چلتے ہیں

میں وہاں راہ کی‘ رفتار کی کیا بحث کروںاپنے پیروں سے جہاں لوگ نہیں چلتے ہیں

پار کر جاؤں گا اک روز یہ صحرائے گماںمیں نہیں چلتا‘ مرے پائے یقیں چلتے ہیں

زندگی! تجھ سے زیادہ وہ سمجھتے ہیں تجھےرکھ کے دن رات جو چھاتی پہ زمیں‘ چلتے ہیں

راستے اچھے‘ ہوا اچھی‘ سفر بھی دلچسپپہلے قدموں پہ تو آ جائے یقیں‘ چلتے ہیں

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں