9 اشعار

چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگے

Chamkega abhi mere khayalaat se aage

چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگے

«چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگے» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگےوہ نقش کہ تھا داغ ملاقات سے آگے

لگتا ہے کہ مشکل ہے ابھی دن کا نکلناہے رات کوئی اور بھی اس رات سے آگے

اس وہم سے واپس نہیں پلٹا ہوں کہ ہوگاکچھ اور بھی اس خواب طلسمات سے آگے

آرام سے پیچھے وہ ہٹا دیتا ہے مجھ کوبڑھتا ہوں اگر اس کی ہدایات سے آگے

دوران سفر کرتا ہوں آرام بھی لیکنہوتا ہوں ٹھہرنے کے مقامات سے آگے

عقدہ اسی خاطر کوئی ہوتا ہی نہیں حلہیں سارے سوالات جوابات سے آگے

آگاہ کیا ہے تو ہوئے اور بھی غافلواقف جو نہیں تھے مرے حالات سے آگے

ہو سکتا ہے کیا کوئی بھلا ان کے برابررہتے ہیں جو خود اپنے بیانات سے آگے

اتنا بھی بہت ہے جو ظفرؔ قحط نوا میںنکلی ہے کوئی بات مری بات سے آگے

— ظفراقبال