9 اشعار

آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ

Aag ka rishta nikal aaye koi pani ke saath

آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ

«آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھزندہ رہ سکتا ہوں ایسی ہی خوش امکانی کے ساتھ

تم ہی بتلاؤ کہ اس کی قدر کیا ہوگی تمہیںجو محبت مفت میں مل جائے آسانی کے ساتھ

بات ہے کچھ زندہ رہ جانا بھی اپنا آج تکلہر تھی آسودگی کی بھی پریشانی کے ساتھ

چل رہا ہے کام سارا خوب مل جل کر یہاںکفر بھی چمٹا ہوا ہے جذب ایمانی کے ساتھ

فرق پڑتا ہے کوئی لوگوں میں رہنے سے ضرورشہر کے آداب تھے اپنی بیابانی کے ساتھ

یہ وہ دنیا ہے کہ جس کا کچھ ٹھکانا ہی نہیںہم گزارہ کر رہے ہیں دشمن جانی کے ساتھ

رائیگانی سے ذرا آگے نکل آئے ہیں ہماس دفعہ تو کچھ گرانی بھی ہے ارزانی کے ساتھ

اپنی مرضی سے بھی ہم نے کام کر ڈالے ہیں کچھلفظ کو لڑوا دیا ہے بیشتر معنی کے ساتھ

فاصلوں ہی فاصلوں میں جان سے ہارا ظفرؔعشق تھا لاہوریے کو ایک ملتانی کے ساتھ

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں