9 اشعار

شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے

Shumar hona hai ya be-shumar hona hai

شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے

«شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہےیہی ہمارا نہ ہونا ہزار ہونا ہے

ابھی نہیں تجھے کر سکتے یاد چل پھر کرپڑے پڑے ہی تیرا انتظار ہونا ہے

رکیں گے کیا ترے دریا کے درمیان میں ابکہ آر ہونا ہے یا ہم نے پار ہونا ہے

ابھی تو ہم نے اٹھانا ہے اور بھی نقصانابھی تو اور بہت کاروبار ہونا ہے

ہمارے خواب نے چلنا ہے کارواں بن کرہماری خاک نے آخر غبار ہونا ہے

کبھی تو کرنا پڑے گا ہمارے ساتھ انصافکبھی تو آپ نے ایماندار ہونا ہے

ہماری پہلے ہی صحت خراب ہے اتنیابھی تمہارے مرض کا شکار ہونا ہے

کبھی تو آئے گی باری ہماری آخر کارتری دکان کے باہر قطار ہونا ہے

ظفر کے ہاتھ بھی خالی ہیں اور دل بھی مگراسی نے آپ کا امیدوار ہوتا ہے

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں