6 اشعار

جب ستارے کہیں نہیں ہوتے

Jab Sitare Kaheen Nahin Hote

جب ستارے کہیں نہیں ہوتےآسماں بادلوں کی چادر میں

دیر تک محو خواب رہتا ہےایسا لگتا ہے کھو گیا سب کچھ

کوئی دریا ڈبو گیا سب کچھدھوپ کھڑکی سے آ نہیں پاتی

سامنے رہنے والی چیزوں کوہم اچانک چھپانے لگتے ہیں

ختم ہوتی ہوئی محبت کواپنے دل میں سمونے لگتے ہیں

زندگی کی پرانی روٹی کوآنسوؤں سے بھگونے لگتے ہیں

— زیشان ساحل