9 اشعار

کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے

Kisi ki den hai lekin meri zarurat hai

کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہےجنوں کمال نہیں ہے کمال وحشت ہے

میں زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوںتمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے

گزر گئی ہے مگر روز یاد آتی ہےوہ ایک شام جسے بھولنے کی حسرت ہے

زمانے والے تو شاید نہیں کسی قابلجو ملتا رہتا ہوں ان سے مری مروت ہے

ہوا بہار کی آئے گی اور میں چوموں گاوہ سارے پھول کہ جن میں تری شباہت ہے

خدا رکھے تری آنکھوں کی دل نوازی کوتری نگاہ مری عمر بھر کی دولت ہے

ترے بغیر بجھا جا رہا ہوں اندر سےجو ٹھیک ٹھاک ہوں باہر سے تو یہ عادت ہے

جو ہو سکے تو مجھے اپنے پاس رکھ لیناترا وصال تو اک ثانوی سعادت ہے

ترے بغیر کوئی کیسے زندہ رہتا ہےمگر میں ہوں کہ یہی عشق کی روایت ہے

— زیشان ساحل