5 اشعار

یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں

Yaad karne ke zamane se bahut aage hain

یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیںآج ہم اپنے ٹھکانے سے بہت آگے ہیں

کوئی آ کے ہمیں ڈھونڈے گا تو کھو جائے گاہم نئے غم میں پرانے سے بہت آگے ہیں

جسم باقی ہے مگر جاں کو مٹانے والےروح میں زخم نشانے سے بہت آگے ہیں

اس قدر خوش ہیں کہ ہم خواب فراموشی میںجاگ جانے کے بہانے سے بہت آگے ہیں

جو ہمیں پا کے بھی کھونے سے بہت پیچھے تھاہم اسے کھو کے بھی پانے سے بہت آگے ہیں

— زیشان ساحل